منڈگوڈ19؍دسمبر (ایس او نیوز) تقریباً پچاس سال پہلے مہاجرین کے طور پر ہندوستان میں داخل ہونے والے تبتی باشندوں کو منڈگوڈ میں آباد ہونے اور اطراف کے جنگلاتی علاقے میں کھیتی باڑی کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
اب سرکاری طور ان زمینوں کے قانونی دستاویزات(آر ٹی سی) میں کھیتی باڑی کرنے والے ان تبتی باشندوں کے نام شامل کیے گئے ہیں اور اس طرح انہیں مالکانہ حقوق حاصل ہوگئے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ گزشتہ سال دسمبر کے مہینے میں ہی تبتی روحانی پیشوا دلائی لامہ کی آمد پر ضلع شمالی کینرا کے ڈی سی ایس ایس نکول اور منڈگوڈ میں دلائی لامہ کے نمائندوں کے بیچ ایک قرارنامے پر دستخط کیے گئے تھے ، جس میں تبتی باشندوں کی بازآبادکاری منصوبے2014کے تحت جس زمین پر تبتی باشندے زراعت کررہے ہیں وہ زمین آئندہ 20برسوں کے لئے ان کو ٹھیکے پر دینے کی بات طے پائی تھی۔اس معاہدے کی سرکاری توثیق کے ساتھ اب آر ٹی سی میں تبتی کسانوں کے نام شامل کریے گئے ہیں، جس کی وجہ سے آئندہ انہیں ریاستی اور مرکزی سرکار کی طرف سے زراعتی اسکیموں سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملے گا۔اس سے پہلے چونکہ آر ٹی سی میں اس زمین کو محکمہ جنگلات کی ملکیت بتایا جاتا تھا اس لئے ان لوگوں کو سرکاری اسکیموں سے فوائد نہیں مل رہے تھے۔
ضلع شمالی کینرا کے ڈی سی نکول نے بتایا کہ آر ٹی سی کے کھاتے میں محکمہ جنگلات کا نام رہے گا اور زراعتی سرگرمیوں والے کالم میں تبتی کسانوں کے نام مرکزی حکومت کی طرف سے جاری احکام کے بعد ہی درج کیے گئے ہیں۔